بنگلورو14؍اگست(ایس او نیوز ؍ عبدالحلیم منصور) مرکز میں اگر سیکولر حکومت برسر اقتدار ہوتی تو شاید آج کشمیر کے حالات میں اس قدر بگاڑ نہ آیا ہوتا۔ ایک طرف پاکستان کی ہندوستان دشمنی کا خمیازہ کشمیری عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف وادئ کشمیر میں 98 فیصد آبادی مسلم ہونے کے سبب ملک کا فرقہ پرست اور متعصب طبقہ یہاں کے عوام پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ یہ بات آج سابق مرکزی وزیراور راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہی۔حج بھون کا معائنہ کرنے کے بعد جناب روشن بیگ وزیر شہری ترقیات وحج کے ہمراہ اردو اخبارات کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جہاں تک کشمیر کا مسئلہ ہے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جہد آزادی کے بعد سے یہ بگڑا ہوا ہے۔ بٹوارے کے بعد یہ مسئلہ مسلسل دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ کا موضوع اس لئے بنارہا کہ کشمیر میں98 فیصد سے زائد مسلمان آباد ہیں، اور پاکستان اس مناسبت سے زمین کے اس حصہ پر اپنا دعویٰ کرتا ہے، لیکن یہاں کے مسلمان اپنی مرضی سے اس ملک میں رہ گئے۔ اس کے بعد بھی مسلمانوں کی حب الوطنی پر شبہات کا سلسلہ برقرار رکھا گیا۔ پاکستان کا جو ہوا سو ہوا ، لیکن جاتے جاتے انگریزوں نے جو نفرت کا بیج دونوں ملکوں کے درمیان بودیا تھا اس کا خمیازہ کشمیری عوام کو بھگتنا پڑ رہاہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کی اس سازش کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا ہے۔ غیر مسلموں کے دلوں میں آج بھی کہیں نہ کہیں مسلمانوں کے تئیں شبہات بڑھتے رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ہمارے ملک میں سیکولر طاقتیں کمزور پڑ گئی ہیں اور آج وہ طاقتیں اقتدار پر قابض ہیں جوغیر سیکولر اور متعصب ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں امن وامان برقرار نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں جس طرح کی فرقہ واریت پھیل رہی ہے خوش قسمتی سے جنوبی ہند میں ایسا ماحول نہیں ہے، یہاں آج بھی سیکولر سیاسی جماعتیں اور عوام ملک کی سالمیت کیلئے فکر مند ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں تمام طبقات کے درمیان اتحاد اس لئے ضروری ہے کہ آج ہمارا ملک دونوں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے، ایک طرف چین اپنی بقاکیلئے کسی کو بھی تباہ کرنے پر آمادہ نظر آرہا ہے تودوسری طرف پاکستان کشمیر مسئلے اور 1971 کی پسپائی کا انتقام لینے کیلئے ہندوستان کا دشمن بنا بیٹھا ہے۔ایسے مرحلے میں اگر ملک کی سیکولر طاقتوں نے متحد ہوکر ملک کی کمان نہ سنبھالی تو حالات سدھر نہیں پائیں گے۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سیکولر سیاسی جماعتوں کو اقتدار کا وائرس لگ چکا ہے۔ گؤ رکشا کے نام پر اقلیتوں اور دلتوں پر حملوں کے متعلق ایک سوال کے جواب میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ داردی میں محمد اخلاق کو مارنے کا مسئلہ ہو یا پھر جھارکھنڈ کے لاتہار میں مویشیوں کو لے جانے والے دو افراد کو پھانسی دینے کا مسئلہ یا دیگر مقامات پر گؤ رکشکوں کی مبینہ غنڈہ گردی ، ان تمام مسائل پر انہوں نے پارلیمان میں تفصیلی بات رکھی ہے۔ بارہا اس مسئلے کو انہوں نے ارباب اقتدار کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ دلتوں پر گؤ رکشکوں کے حملوں پر وزیراعظم مودی کی لب کشائی دراصل ایک سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کو یہ غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ مودی کوان سے ہمدردی ہے، بلکہ آنے والے پنجاب کے انتخابات میں اس ریاست کے 32 فیصد دلتوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے مودی نے ایسا بیان دیاہے۔ اقلیتی طلبا کو تعلیمی اسکالر شپ کی فراہمی میں مرکز کی تاخیر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ اقلیتی اسکالر شپس بھی فرقہ پرستی کا شکار ہوگئی ہیں۔جس دن سے بی جے پی نے اقتدار سنبھالاہے مسلسل اقلیتی طلبا کے اسکالر شپس کو روکنے کا کام جاری ہے۔ان اسکالر شپس کو روک دئے جانے کی وجہ سے پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم سینکڑوں طلبا کو بے دخل کیاجاچکا ہے۔ کرناٹک کے طلبا کو اسکالر شپ کی فراہمی میں تاخیر کے متعلق توجہ دلائی جانے پر انہوں نے اس سلسلے میں مرکز سے نمائندگی کا یقین دلایا۔اس موقع پر وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ ، پرسٹیج گروپ کے منیجنگ ڈائرکٹر عرفان رزاق ، آئی ایم اے کے منیجنگ ڈائرکٹر منصور احمد خان ، آغا سلطان ،رومان بیگ وغیرہ موجود تھے۔